چار بانس، چوبیس گز
ہشت انگل پرمان
تا اوپر ہے سلطان
مت چوکے چوہان
(پرتھوی را ج راس)

لاہور میں پیدا ہونے والے برج بھاشا کے شاعر، چند بردائے کا یہ قطعہ ، شبد بھدی بان کہلاتا ہے۔ ریل کی پٹڑی سے اس کا تعلق جاننے کے لئے اس بان کی حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔

کہتے ہیں کہ ترائیں کی دوسری جنگ میں جب شہاب الدین غوری نے سمراٹ پرتھوی راج چوہان کو شکست دی تو اسے اپنے ساتھ غزنی لے گیا۔ مہاراج پرتھوی راج کے ساتھ اس کا درباری شاعر چند بردائے بھی تھا۔ شہاب الدین غوری نے پرتھوی راج کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور آئے دن اسے دربار میں طلب کرتا۔

ایک ایسے ہی دن سلطان نے پرتھوی راج کو تیر اندازی کی دعوت دی ۔ چند بردائے نے اندھے راجپوت کے کانوں میں یہ بان پڑھا۔ اس بان کے مطابق چار بانس کی اونچائی ، چوبیس گز کی دور ی اور آٹھ انگلیوں کی چوڑائی پر سلطان کا تخت ہے جسے نشانہ بنانے میں چوہان بالکل نہ چوکے۔

جیسے بہادر پہلے وقتوں کے راجے ہوا کرتے تھے، پرتھوی راج نے تیر چلایا جو سلطان کی موت کا باعث بنا۔ مگر یہ صرف ایک کہانی ہے ، جو سرحد کے دوسری طرف اجمیر کی ر اجپوت مائیں اپنے بچوں کو سناتی ہیں اور جس پر ٹی وی سیریل بنتے ہیں۔ سرحد کے اس طرف تاریخ قدرے مختلف ہے۔

پنڈورا کے ریلوے اسٹیشن کے بعد پٹڑی کا راستہ ایک سڑک کاٹتی ہے جو دھمیک گاؤں کو جاتی ہے۔ اس راستے پر وقت کی اتنی خاک پڑ چکی ہے کہ یہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مگر اس کے باوجود تاریخ اس گاؤں سے جدا ہونے کو تیار نہیں ۔ ایک مہم کے سلسلے میں لاہور سے واپس جاتے ہوئے سلطان کے قافلے نے دھمیک گاؤں میں قیام کیا۔ ایک رات عشاء کی نماز کے دوران گکھڑوں کے ایک گروہ نے شاہی خیموں پر حملہ کیا اور سلطان شہاب الدین غوری کو قتل کر دیا۔

وصیت کے مطابق سلطان کو وہیں دفن کیا گیا جہاں اس کا انتقال ہوا تھا۔ آج سے کچھ سال پہلے مقتدر حلقے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی موجودگی میں شہاب الدین غوری کے مزار کی تعمیر نو کی گئی۔ عمارت کے سامنے غوری میزائل کا ایک ماڈل بھی نصب ہوا جو ہندوستانی پرتھوی میزائل کا جواب ہے۔

سلطان کے ایک چچا نے کسی سرحدی معاملے میں غزنی شہر کو آگ لگا دی اور سات دن تک شہر کو جلنے دیا۔ جب عمارتیں، محل، تالاب اور سرائے ، سب جل چکا تو اس افغان زادے نے اپنے لئے ایک سوختہ سا نام چنا۔ علاؤالدین جہاں سوز۔۔۔ خدا کی سر زمین کے اس ٹکڑے پر شاید لوگوں کے مقدر میں غوریوں اور پرتھویوں کے ہاتھوں جہاں سوزی ہی لکھی ہے ۔

رہی بات شبدبھدی کی، تو جب قلم کلمہ پڑھ لے، پھر سب سے پہلے تاریخ کافر ہوا کرتی ہے۔ ادب، مذہب اور تاریخ کی تثلیث ہمیشہ سچ کے توحید کے درپے رہتی ہے۔

یہیں کہیں مسہ کسوال میں گیس کے کنوئیں ہیں اور کانشی کا دریا ہے جو ریل کی پٹڑی کے گرد گھومتا ہے۔ اس خطے میں چھوٹے چھوٹے مگر تاریخی قصبے ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہیں جیسے متوسط گھرانوں میں تعلیم سے آسودگی مشروط ہوا کرتی ہے۔ شور مچاتی ریل تھکے بغیر دوڑ رہی ہے۔

اونچی نیچی پہاڑیوں پر قدآور بجلی کے کھمبے، محنت کش مردوں کی طرح کمر پر ہاتھ جمائے کھڑے ہیں۔ ان کے کندھوں اور کمر کے آس پاس ذمہ داری کی برقی رو بہہ رہی ہے۔

دور قصبے میں کہیں شادی ہو رہی ہے۔ ٹرین کے مسافروں سے بے نیاز خوش آمدید کے بورڈ پر دو مور ایک دوسرے سے منہ موڑے اپنے پروں سے قمقموں کی صورت فوارے چلا رہے ہیں۔ افسوس ، چند بلب فیوز ہیں جن کی وجہ سے تالاب میں لہریں نہیں پیدا ہو رہی!!!

اگلا اسٹیشن سوہاوہ کا ہے جہاں بشن دور کے نام کی ایک منڈی ہوا کرتی تھی جو اب دیوان حضوری کہلاتی ہے۔ ترکی کے جھول سے پرے ڈومیلی اور رتیال کے چھوٹے چھوٹے اسٹیشن ہیں جہاں گاڑی رکنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ تین پورہ کے نالے کے پار دینہ آباد ہے۔ دینہ کے دو حوالے ہیں۔ منگلا نام کا قلعہ اور گلزار نام کا جزیرہ ۔

منگلا کینٹ کو جانے والا راستہ شور سینی راجہ پورس کی جاگیر ہوا کرتا تھا۔ پورس، چناب اور جہلم کے دریاؤں کے درمیان پھیلی سلطنت کا راجہ تھا جس کی عملداری بعد میں بیاس تک دراز ہوئی۔ اسی راجہ پورس نے اپنی بیٹی منگلا کے نام پر منگلا کا قلعہ تعمیر کیا جو اب منگلا جھیل کے ایک کنارے پر ہے ۔

دوسرے کنارے پر رام کوٹ کا قلعہ ہے ، جسے مسلمانوں نے تعمیر کیا اور سکھوں نے استعمال کیا۔ تقریبا اسی جگہ پورس اور سکندر کے درمیان جنگ ہوئی تھی۔ اس فتح کی یاد میں سکندر نے وہ تاریخی سکہ ڈھلوایا جس کے ایک رخ پر سکندر کے گھوڑے پورس کے ہاتھیوں کو روند رہے ہیں اور دوسرے رخ پر سکندر زیوس دیوتا سے آسمانی بجلی کے ذریعے طاقت حاصل کر رہا ہے۔

سکندر کا ماننا تھا کہ اس جنگ کے جیتنے میں اس کی بہادری یا پورس کی بزدلی کا دخل نہیں، بلکہ یہ جنگ اسے مون سون کی بارشوں نے جتوائی ۔سکندر نے یہ علاقہ بھی فتح کیا اور یہاں کے لوگوں کے ذہن بھی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آدرشی لوگ اپنے بچوں کے نام سکندر رکھتے ہیں ، پورس نہیں۔ بیرونی حملہ آوروں سے محبت ہندوستان کا دائمی مرض ہے۔

سمپورن سنگھ گلزار نام کے ہی نہیں، فن کے بھی سمپورن ہیں۔ رنگ اور روشنی کی فلمی دنیا سے تعلق کے باوجو د گلزار، سیدھی کہانی لکھتے ہیں اور سادہ شعر کہتے ہیں ۔

ان کی اپنی کہانی کچھ یوں ہے کہ دینہ کے جس گاؤں میں گلزار کا جنم ہوا، اس کی گلیاں ، آج بھی ان کے حافظے پر کندہ ہیں۔ جب دینہ پاکستان کا حصہ بن گیا تو گلزار کے گھر والے اپنا سامان ، یادیں اور آنسو سمیٹتے سمیٹتے یہاں سے رخصت ہوئے۔

قافلے کے ساتھ چلتے چلتے کسی بچے کا کھلونا گر گیا۔ مٹی کے گھوڑے کو ڈھونڈھنے کیلئے قافلے سے جدا ہونے والا ننھا سمپورن ، آج تک گھر والوں کو ڈھونڈ رہا ہے۔ سرحد پار کی یہ کہانی بہرحال سچی معلوم پڑتی ہے۔

Advertisements