ریلوے لائن جرنیلی سڑک کے ساتھ ساتھ اور دائیں بائیں سفر کرتی ہے لہٰذا وہ تمام پہناوے، محاورے اور پکوان جو اس شاہراہ سے منسوب ہیں، وہ پوٹھوار کی حد تک اس پٹڑی سے بھی جڑے ہیں۔
محمد خان مندرہ کے نام سے موسوم اور جسٹس افضل ظلہ کے نام سے مشہور ، مندرہ سے گاڑی جنگل بیلے کا ہلکا سا نشہ بھرتی ہے اور ایک دلفریب خطے میں قدم دھرتی ہے۔ ’مرید‘ کے گمنام سٹیشن سے ریل کی پٹڑی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ ایک راستہ تارا گڑھ اور ڈھڈیال سے ہوتا ہوا چکوال جاتا ہے اور دوسرا راستہ گھنگھریلا سے ہوتا ہوا گوجر خان ۔

پوٹھوار کا دل۔۔گوجر خان۔۔۔کہانیوں کے مطابق سلطان غزنوی نے جب اس جگہ کو آباد کرنے کا قصد کیا تو زوروں کی بارشیں ہوئیں ، بادل چھٹے تو کٹی پھٹی زمین نمودار ہوئی، چونکہ سلطان کا سومناتھ جانا زیادہ ضروری تھا لہٰذا اس نے اس جگہ کو توجہ دینے کی بجائے صرف نام دیا اور آگے بڑھ گیا۔

پھٹ ہار، سے بگڑتے بگڑتے اب اس علاقے کو پوٹھوار کہا جاتا ہے۔ رہی بات کہانیوں کی، تو بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ بے وقت کہانی کہنے اور سننے سے مسافر گھر کا راستہ بھول جاتے ہیں۔ شاید اسی لئے یہاں کے زیادہ تر لوگ گھر کا راستہ بھول چکے ہیں۔

تقریبا ڈیڑھ ہزار برس ادھر جب گوجر پرتیہار سلطنت کے بادشاہ اپنے آپ کو مہاراج ادھیراج آریاورت کہلوایا کرتے تھے، کسے معلوم تھا کہ دیس سے محبت کرنے والے گوجروں کا یہ مسکن ، ایک دن پردیس کا جھومر ہو گا۔ قنوج کے دارالحکومت سے ہندوستان پر راج کرنے والے یہ لوگ اپنے آپ کو پرتیہار اس لئے کہتے تھے کہ اس وقت کی الہامی کتابوں میں محافظ کے لئے پرتیہار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

کوئٹہ سے گلمرگ اور سراروغہ سے قلعہ عبداللہ تک آج بھی پوٹھوار کے جری جوان اپنی تاریخ نبھا رہے ہیں۔ حفاظت کرنا شائد اس مٹی کی تاثیر ہے، یہی وجہ ہے کہ ریل کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ شہید وں کی قبریں اور بیرون ملک سرمائے سے بنی رنگین کوٹھیاں کثرت سے نظر آتی ہیں۔

پرانوں کے مطابق یہاں بسنے والے اگنی کلا راجپوت ہیں، یعنی آگ سے نکلے ہوئے۔ 947 1  سے پہلے یہاں کھشتری ذات کے سیٹھی اور بھلہ رہا کرتے تھے، اب ان کی جگہ جنجوعہ راجپوت اور گکھڑ کیانی یہاں کے باسی ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے پہلے جنرل محمد زمان کیانی اس قبیلے کی پہچان ہو ا کرتے تھے۔ انڈین ملٹری اکیڈمی دہرہ دون سے اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے یہ پہلے ہندوستانی مسلمان تھے۔

دوسری جنگ عظیم میں اس راجپوت سپوت کے من میں نہ جانے کیا سمائی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ، نیتا جی سبھاش چند ر بوس کی آزاد ہند فوج میں شامل ہو گئے۔ پاکستان بنا تو آپ گلگت کے گورنر تعینات ہوئے اور کتاب بھی لکھی گویا یہ روایت بھی پرانی رہی ہے۔

اپنی عسکری وجہ شہرت کے علاوہ اس شہر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے دونوں موجودہ سربراہان مملکت کا تعلق یہیں سے ہے۔ مہا بھارت میں لکھا ہے کہ گوجر پہلے لڑے اور بعد میں اپنے دیوتا کشن کے ساتھ ہجرت کر گئے بالکل ایسے ہی جیسے پوٹھوار کے لوگ پہلے جوق در جوق فوج میں بھرتی ہوئے اور اب گروہ د ر گروہ ملک سے باہر جا رہے ہیں۔

گوجر خان کا ریلوے اسٹیشن1860 میں قائم ہوا۔ سفید رنگ کی عمارت کے ساتھ ایک لوہے کی مچان سی بندھی ہے جو کانٹا بدلنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ 1909 میں یہاں پہلی بار بس چلی تو سیٹھ میلا رام کی ٹرانسپورٹ کمپنی لوگوں کو تیس پیسے میں پنڈی تک لے جایا کرتی تھی۔ آج کل لوگ اپنی زمینیں بیچ کر رینٹ اے کار کی دوکانیں کھول رہے ہیں تاکہ سیٹھ میلا رام کی روایت نبھاتے رہیں۔

ایک طرف بیول کا مشہور قصبہ ہے۔ کچھ لوگ اس نام کو اکبر کے مشہور رتن بیربل سے جوڑتے ہیں ۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ قصبہ ایک ہندو راجہ کی بیٹی کے نام پر آباد ہوا۔ تاریخ جو بھی کہے مگر آج بیول کو ایک بیٹے نے اپنے باپ کی محبت میں آباد کر رکھا ہے۔ پاکستان کا سب سے متمول دیہات پہلے صرف اپنے دآاویز مگر خالی بنگلوں کی وجہ سے مشہور تھا پھر 2005 میں ایک صاحب دل ڈاکٹر عتیق الرحمان نے اپنے والد عبدالرحمان کے نام پہ یہ ہسپتال قائم کیا۔

جدید ترین طبی سہولتوں سے مزین اس اسپتال کو کاغذ سے زمین پر لانے میں انگلستان کے پاکستانی ڈاکٹروں اور بیول سے تعلق رکھنے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ سعیدہ وارثی نے بہت کام کیا۔ اسپتال میں کام کرنے کے لئے ڈاکٹر ، ہڑتال کے باوصف، راولپنڈی سے آتے ہیں۔

سیناپتی اور راشٹر پتی، سالار اعظم اور وزرائے اعظم کے علاوہ کچھ مقطر لوگ بھی یہاں دل کی دنیا کا اہتمام کرتے ہیں۔ پروفیسر احمد رفیق اختر ایک ایسے ہی صاحب حال ہیں۔ داڑھی سے بے نیاز اور روایت سے ماورا، اس صوفی کو بہت سے لوگ بہت سے ناموں سے پکارتے ہیں۔ کچھ انہیں بابا کہتے ہیں اور کچھ انہیں جوگی انکل۔

ایک بات بہر طور طے ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور سے گورڈن کالج پنڈی تک کا سفر محض حصول علم سے اشاعت علم تک کا سفر نہیں تھا بلکہ اس دوران پروفیسر صاحب بے شمار روحانی اور قلبی تجربوں سے گزرے۔ آپ کی گفتگو سننے لوگوں کی ایک بڑی تعداد گوجر خان آتی ہے۔

ان کا ادارہ علٰمٰت آج کے بھنور بھنور سمندر میں ایک ایسا جزیرہ ہے جہاں بڑے بڑے دخانی جہاز اور چھوٹی چھوٹی بادبانی کشتیاں سکون کی تلاش میں لنگر انداز ہوتی ہیں۔ عجیب معاملہ ہے کہ پہلے لوگ معاش کے حصول میں سکون تج دیتے ہیں اور پھر سکون کی طلب میں معاش۔ شاید اسی لئے صاحب دنیا دائرے کی صورت سفر کرتا ہے اور صاحب دل لکیر کی صورت۔۔۔

Advertisements