ریل چلی تو لوگوں کی دبی دبی سسکیاں بھی چلنا شروع ہو گئیں۔ واپسی کے راستے پہ گنہ کلاں کے اسٹیشن سے گاڑی گزری تو سب سرداروں نے منہ دوسری طرف کر لئے اور سب عورتوں نے پلو منہ میں چھپا لئے، گویا کسی کو آخری بار دیکھ رہے ہوں۔

جو بچے اس وقت سہمے بیٹھے تھے وہ اب گاؤں کو یاد کر کے روتے ہیں۔ انجن کی ہر شوکاٹ کوئی آرا تھا جو مسافروں کے وجود کو رگیدتا چلا جا رہا تھا۔ بارش کے بعد گاؤں دھل کر اور بھی نکھر گیا تھا۔

ٹرین کو جھنڈی دکھانے والا بارو عیسائی تھا۔ گاڑی کے اندر سب اس کے یار بیلی تھے مگر آج کوئی اسے ملنے نیچے نہ اترا تھا۔

گاؤں کے باہر طالب حسین ہمیشہ سکول جانے کے لئے باجوے بھائیوں کا انتظار کرتا تھا، جب تک سب پورے نہ ہو جاتے وہ ٹھٹھے مذاق سے سب کا دل بہلاتا ۔ طالب آج بھی اپنی مخصوص جگہ پہ کھڑا تھا مگر چپ چاپ اور اداس۔۔۔خدا حافظ کہنے آیا تھا مگر ہاتھ ہلانے کا حوصلہ نہیں کر پایا۔

کھڑکی کے چوکھٹے سے گرودوارہ بابے دی بیری، خالصہ سکول، مرے کالج اور کانگڑہ پارک ایک ایک کر کے گزر گئے۔ اب نہ بابے کی بیری میں چوداں چیت کا میلہ ہو گا نہ کانگڑہ پارک میں سکھ نوجوانوں کے زو۔ کوئی وقت تھا کہ لوگ آدھی رات کو تاروں کی روشنی میں یہ میلہ اور یہ زور دیکھنے چل پڑتے تھے۔ اب شائد ایسا ممکن نہیں۔ پتہ نہیں وہ آزادی تھی یا یہ آزادی ہے۔

الہڑ اور قلعہ سوبھا سنگھ کے اسٹیشنوں سے آگے نارووال پہنچ کر گاڑی ٹھہر گئی۔ گارڈ نے آگے جانے سے انکار کیا تو کسی نے گارڈ کے سر پہ پستول دھری اور موت کی دھمکی دی جو اثر کر گئی۔ جسڑ سے آگے دوہرا پل تھا اور پل پار کرتے ہی ہندوستان۔ ڈیرہ بابا نانک کے پاس گاڑی رک گئی۔ اترتے ہی کسی نے کہا گرودوارے چلے چلو وہاں لنگر ہے۔

پیدل چلنے، جوھڑوں کا پانی پینے اور راستے میں گری لاشوں کو دیکھنے کے بعد گرودوارے پہنچے۔ کیپٹن ساون سنگھ نے پھر آواز لگائی، اب تم آزاد ہو، پورے کے پورے آزاد۔ آزاد ہندوستان میں ہو تمہارا کوئی گھر، جگہ، تھاؤں ٹھکانہ نہیں رہا۔ اوئے سب لوٹا گیا ہے، سب مصیبتوں سے جان چھوٹ گئی ہے۔ اب آزادی مناؤ۔ اس کے ساتھ ہی کیپٹن ساون سنگھ باجوہ، سردار بہادر، آرڈر آف برٹش ایمپائر کی وہ آواز، جس پہ پوری پلٹن اپنے قدموں میں جم جاتی تھی، رندھ گئی اور ہاتھ خودبخود چہرے پہ چھا گئے۔

بھرے پرے گھروں سے تین کپڑوں میں نکلنے والوں کو یہ دن بھولتا ہی نہیں۔ آج کینیڈا میں آباد ان باجووں کے گھروں میں جونہی گھڑی پہر بجاتی ہے اور عورتیں چولہا سنبھالتی ہیں، اگست کی سترہ تاریخ کا وہ چولہا جو جلنا تھا اور نہیں جل سکا ، ان کے سامنے آ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ گنہ کو دوبارہ دیکھنے کی حسرت دل میں لئے دنیا سے چلے گئے۔

مٹی کی محبت، محبت ہے کہ ہوس۔ کیا انسان کا زمین سے رشتہ اس بنیاد پہ ہے کہ یہ اسے اناج دیتی ہے یا آگ برساتے سورج، مینہ چھڑکاتے بادل، پورے چاند اور اندھی دھند میں اکٹھے گزارا ہوا وقت آدمی کو زمین سے باندھ دیتا ہے۔

۔سمجھ نہیں آتا اس کا جواب کس سے طلب کروں ۔ ملا، پنڈت اور گیانی سے جو زمین کو کبھی مذہب کے حق میں اور کبھی مذہب کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ ساہوکار، آڑھتی اور کسان سے ، جو زمین سے نفع اور نقصان کا جوڑ جوڑتے ہیں یا بندھے ہوئے بیل، خوش باش کھلیان کھیلتے بچوں اور گئی عمر کے بوڑھوں سے جو اٹھتے بیٹھتے زمین کی محبت میں نہال ہوتے ہیں۔۔۔

ایک اور خط نواحی گاؤں ندوکے کے مستری برکت نے لکھا ہے۔ شکستہ تحریر میں پینسٹھ برس گزر جانے کے باوجود لکھنے والے کا کرب صاف محسوس ہوتا ہے۔ خط کے اوپر 786 لکھا ہے اور سلام کے بعد تمام رشتے داروں کے حال پوچھے گئے ہیں، نمبردار فوجا سنگھ کے سورگباش ہونے کا ملال اور ندوکے سے جانے والوں کا افسوس کیا گیا ہے۔ سردار بڈھا سنگھ، رتن سنگھ، ماکھا سنگھ، پنڈت جی مایا رام اور میلا رام کا حال دریافت کیا ہے اور آخر پہ اپنا پتہ تحریر کیا ہے۔ خط کے کونے میں لکھا ہے کہ ہم نے آپ کو بڑے شوق سے خط لکھا ہے آپ بھی بڑے شوق سے جواب دینا۔ یہ ہمارا دوسرا خط ہے۔

اگلا اسٹیشن الہڑ کا ہے جس کے بعد ایک طرف چونڈہ ہے اور دوسری طرف بڑا پنڈ۔ دونوں جگہیں دو ملکوں کی فتح، کامیابی اور طاقت کے تمغے ہیں۔ دیکھنے والی آنکھ مگر فتح، کامیابی اور طاقت کو نہیں دیکھتی بلکہ بدن چھیدتی گولی، راکھ ہوتے جسم اور آگ جلتی بستیوں کو دیکھتی ہے۔

عین ممکن ہے، طالب حسین باجوہ کا لڑکا فوج میں ہو، مستری برکت حسین نے مدرسے میں بچے داخل کروائے ہوں اور گرودیال سنگھ کا بیٹا خالصہ پنتھ کا مان بڑھاتا ہو۔ مگر برسوں پہلے، طالب، برکت، گرودیال اور بارو کے بڑے بوڑھوں نے گرم دوپہروں میں اس اکیلے درخت تلے بیٹھ کر اپنے اپنے بچوں کے لئے یہ سپنا تو نہیں دیکھا تھا۔کسی نے کہیں ظلم ضرور کیا ہے جو لال آندھی اب تک چل رہی ہے۔

پنجاب کی ہجرت عجیب ہجرت ہے، جو اس مٹی کو ایک دفعہ چھوڑتا ہے اسے زندگی میں دوسری بار بھی دیس نکالا ملتا ہے۔ یہی کسب ہے کہ ہر پنجابی کی زندگی میں ایک سینتالیس کے بعد دوسرا سینتالیس ضرور آتا ہے۔ یہاں سے راوی پار کر جانے والے کو دوسری ہجرت 1984 میں کرنا پڑی جب گورودوارے میں امن کی بجائے جنگ چھڑ گئی اور جو یہاں رہ گئے ان میں سے ہر شخص ہر روز ہجرت کا قصد کرتا ہے۔

نوٹ : گنہ کلاں کے بارے میں چھان پھٹک کے دوران سردار بلکار سنگھ باجوہ کی ایک یادداشت ملی اور متذکرہ بالا چند خط ملے۔ اس سفر کے کچھ حصے ان کی تحریر سے اخذ کئے گئے ہیں ۔ جلال پو ر جٹاں کے آشفتہ سر داروغے کی طرح گنہ کلاں میں بھی ایک باجوہ تاریخ کی راکھی بیٹھا ہے۔ خدا امتیاز کو سلامت رکھے جس نے اس اسٹیشن کو زمین سے نکالا اور گوگل پہ ڈالا۔ رہی بات میری تو میرا تعلق ، امن کی آشا سے نہیں کیونکہ آشائیں حکومتیں نہیں پیدا کرتی، لوگوں کے دلوں سے اٹھتی ہیں۔Image

Advertisements