نارووال سے پاکستان کا وقت شروع ہوتا ہے۔ اول اول یہاں ارور ہندوؤں کی آبادیاں تھیں، جنہوں نے شاہ شمس کے ہاتھ پہ اسلام قبول کیا۔

کسی نارو نام کے شخص نے جب شہر آباد کرنے کی ٹھانی تو پروہتوں نے کسی سید سے بنیاد رکھوانے کی شرط لگا دی۔ اچنبھے کی بات ہے کہ سوبھا سنگھ کے قلعہ کی بنیاد میں مسلمان کا خون تھا اور نارووال کے شہر کی بنیاد میں مسلمان کی دعا۔ اسی سید زادے کی تلاش نارو کو حبیب اللہ شاہ تک لے گئی جو نارو کے ہمراہ یہاں چلے آئے ۔ ایک ٹیلے پہ نارو کی اولاد آباد ہوئی اور دوسرے پہ حبیب اللہ شاہ کا خاندان۔ نارووال بس انہی دو خاندانوں کی کہانی ہے۔

شہر میں اب کچھ بھی پرانا نہیں رہا۔ عمارتیں گر گیئں، مندر دب گئے اور گرودوارے بے آبادی کی موت مر گئے۔ شکر گڑھ جانے والے راستے پہ اب ایک ہی جگہ سارے سرکاری دفتر بن گئے ہیں۔ دفاتر کے ساتھ ساتھ افسران کی رہائش گاہیں بھی ہیں۔ سرکار کے کارندوں کی یہ بستی آہستہ آہستہ بس رہی ہے۔

دیر تک ڈھونڈھنے کے بعد بھی کچھ نہ ملا تو ایک استاد سے پوچھا کہ وہ قدیم عمارتیں کیا ہوئیں۔ پرانے آدمی تھے سو اپنی واسکٹ پہ جمی چاک کی تہہ جھاڑتے ہوئے بولے، ’’جہاں بندے نہ رہے وہاں عمارتیں کیا رہیں گی‘‘۔

عمارتوں کی تحقیق ترک کی اور بندوں کے حوالے شروع کئے تو ایک خوبصورت تکون کی صورت تین نگر اور ہر نگر سے ایک شاعر سامنے آ گیا۔ نارووال، اس تکون کے ایک سرے پہ واقع ہے اور یہ کونا ہاشم شاہ کا ہے۔ ہاشم شاہ نے سندھ کی سسی کو کیچ کے پنوں کے حوالے تو نہیں ہونے دیا مگر اس فراق اور درد کو پنجاب والوں کو ترکہ کر دیا ۔

تکون کا دوسرا کونا جسڑ ہے جہاں ایک چھوٹا سا ویران ریلوے اسٹیشن ہے۔ گئے دنوں میں اس جگہ پہ راوی کا دوہرا پل تھا۔ ریل اور سڑک کے زریعے لوگ دریا پار کرتے تھے۔ تب خلق خدا کا پانی تقسیم نہیں ہوا تھا اور پل بنانا فیض کا سبب تھا۔ ستمبر کی جنگ میں یہ پل اڑ گیا۔

حیرت کی بات ہے کہ اتنی جنگوں، نظریاتی اختلافات، غوریوں اور پرتھویوں، اجمل قصاب اور بال ٹھاکرے کے باوجود دریائے سین کے کناروں، ہیمبرگ کی دوکانوں اور روم کے کھنڈروں میں جب بھی کوئی پاکستانی کسی ہندوستانی کو دیکھتا ہے تو شناسائی کا ایک رنگ چہرے پہ ضرور آتا ہے۔

پردیس جیسی واردات ان غریب الوطنوں پہ کرتا ہے وہ کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔ جب سورج تانبے ایسا رنگ اختیار کرتا ہے اور شام کا اندھیرا ہلکے ہلکے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لینے لگتا ہے تو ان ناراض ملکوں کے راضی بہ رضا مسافروں کو ماں یکساں شدت سے یاد آتی ہے۔ کوئی زیور بیچ کر ایجنٹوں کو پیسے دیتا ہے تو کوئی اپنی قابلیت گروی رکھوا کر پردیس خریدتا ہے، قیمت کچھ بھی ہو، یہ سودا چبھتا ضرور ہے۔

پل کے رشتے کے علاوہ بھی کچھ ہے جو ان لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، یہ زبان کا بندھن ہے۔ سو تکون کے دوسرے کونے جسڑ پہ پنجابی کے مشہور شاعر احسن افضل رندھاوا رہتے ہیں۔ اب اسے بجوات کا فیض جانئے یا راوی کی قربت، اس شاعری میں کچھ ایسا ضرور ہے جو آگے بڑھتے پنجابیوں کو پیچھے مڑنے پہ مجبور کرتا ہے۔

میں دریاواں دا ہانی ساں

ترنے پے گئے کھال نی مائے

تکون کا تیسرا کونا، کالا قادر کا گمنام سا گاؤں ہے۔ عام سی گلیاں، چوراہے، کھیتوں کے درمیان ڈیرے اور کہیں کہیں بجلی کے کھمبے، بس ایک قدر ہے جو دونوں میں مشترک ہے، جیسے درویش فیض تھے ویسا ہی سادہ ان کا یہ گاؤں ہے۔ فوج کی نوکری سے راولپنڈی سازش کیس تک اور امروز کی اداریہ نگاری سے آرٹس کونسل کی سربراہی تک فیض نے کسی کو بے فیض نہیں چھوڑا۔

نارووال کا ایک اور تعارف ڈاکٹر امام الدین شہباز ہیں۔ آج پنجاب کے دونوں اطراف پڑھی جانے والی زبور کی پنجابی دعائیں ڈاکٹر امام کا ہی کارنامہ ہیں۔ آپ نے پوری زبور کا پنجابی منظوم ترجمہ بھی کیا اور بہت سے مقبول مذہبی گیتوں کی دھنیں بھی ترتیب دیں۔

جسڑ سے سڑک ریل کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ یہ سفر بھی خوب ہے، کہ اس طرف سرحد کی لکیر، اس طرف ریل کی لکیر اور بیچ میں سڑک کی لکیر۔ جسڑ سے آگے کرتار پورہ ہے۔ اس شہر کو بابا نانک نے کرتار کے نام پہ آباد کیا۔ خدا کے نام پہ جنگیں تو سب نے لڑیں مگر بستی صرف بابا نانک نے بسائی۔

یہیں ایک گرودوارہ ہے جسے دربار صاحب کرتارپورہ کہتے ہیں۔ اپنے آخری دور میں بابا نانک نے یہاں قیام کیا اور ان کا انتقال بھی اسی جگہ ہوا تھا۔ آپ کے انتقال کے بعد مسلمان اور ہندو عقیدتمندوں کے درمیان میت کو دفنانے یا جلانے کے حوالے سے اختلاف پیدا ہوگیا۔ بڑے آدمی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ ترکے میں اختلاف چھوڑ جاتا ہے۔

فوٹو بشکریہ مصنف –.

بات بڑھتے بڑھتے فساد تک پہنچی تو کسی نے لڑنے والوں کو بتایا کہ کفن کے نیچے بابا جی کا جسم نہیں بس کچھ پھول دھرے ہیں۔ دونوں فریقین کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو مصلحت کا راستہ نکلا۔ اسی چادر کے آدھے حصے کو ہندوؤں نے اپنے طور پہ انتم سنسکار کر دیا اور باقی کی چادر کو مسلمانوں نے روائتی طریقے سے دفنا دیا۔ دربار کے احاطے میں قبر بنی ہے اور اندر سمادھی۔

فوٹو بشکریہ مصنف –.

گرودوارے کے ماتھے پہ سیوا کرائی کی ایک تختی لگی ہے۔ یہ مہاراجہ پٹیالہ کی عقیدت کا ثبوت ہے۔ آزادی کے بعد گرودوارہ بند ہو گیا۔ دونوں حکومتوں کو جنگوں سے فرصت ملی تو چالیس سالوں بعد گرودوارے کی طرف دھیان ہوا اور اس کی تعمیر نو کی گئی۔

فوٹو بشکریہ مصنف –.

گرودوارہ اب کافی بہتر حالت میں ہے، پاکستانی حکومت نے راوی پار تک راستہ بنانے کی پیشکش کی تھی مگر بدگمانیوں کے پانیوں میں کاغذوں کی کشتیاں نہیں چلتیں اور ویسے بھی دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جو سلوک بھی کیا ہے وہ عقیدت کے احترام میں ہی کیا ہے۔ گرودوارے میں بھائی منجیت سنگھ ہر جملے کو ’’آپ جی‘‘ کی پگڑی پہنا کر سماعتوں کے حوالے کرتا ہے۔

اندر داخل ہوں تو ایک طرف نشان لہرا رہا ہے، پاس میں کنواں ہے اور سامنے ایک سنگ مرمر کی قبر ہے۔ راہداری میں سمادھی بنی ہے۔ قبر کی جالیوں پہ شاہ مکھی میں بانیاں لکھی ہیں اور اندر سمادھی کے اوپر گرومکھی میں۔ اوپر کے کمرے میں گرنتھ دھری ہے۔ کھڑکی کھولیں تو دریا کے دوسری طرف ڈیرہ بابا نانک کا گرودوارہ دکھائی دیتا ہے۔

فوٹو بشکریہ مصنف –.

دونوں گرودواروں کی اوپر کی منزل سے ایک دوسرے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ نیچے احاطے میں لنگر کا سامان ہے اور پیچھے تعمیراتی کام ہو رہا ہے۔ گرودوارے میں آنے جانے والے خاموشی سے جوتیاں اتارتے، سر کو ڈھانپتے اور ایک طرف سمٹ کر چلتے ہوئے عقیدت کی تصویر لگتے ہیں۔

بیرونی دیوار کے ساتھ ساتھ درختوں کی ایک دیوار سی بنی ہے اور شاید اس کے آگے راوی کا دھندلکا ہے۔ ہم چلنے لگے تو منجیت نے میرے سر کی طرف اشارہ کیا، بے دھیانی میں خس کی ٹوپی ساتھ ہی چلی آئی ۔ میں نے غور کیا تو یاد آیا کہ مسجد کی ٹوپیاں بھی بالکل ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔ اندر کیرتن کی بولیان گونج رہی تھیں۔ 

فوٹو بشکریہ مصنف –.

اول اللہ نور اپایا قدرت کے سب بندے،

ایک نور سے سب جگ پجیا کون بھلے کو مندے

(بھگت کبیر)


Advertisements