واپسی کا راستہ یادوں کا ایک جنگل ہے۔ بڑھاپے کی فراغت ہو یا آسودگی کی فرصت، آدمی پہ ایک وقت ضرور آتا ہے جب وہ کھلے بندوں ان میدانوں میں پھرتا ہے۔ گزری ہوئی گلیاں، ادھورے وعدے اور نامکمل خواہشات کا ہجوم ہر وقت اس کا منتطر رہتا ہے۔

وزیر آباد کا جنکشن ایک مصروف جنکشن ہوا کرتا تھا۔ یہاں سے چہار اطراف ریل چلتی تھی۔ ایک پٹڑی جموں کی طرف جایا کرتی تھی، دوسری سیالکوٹ کی طرف، تیسری علی پور چٹھہ اور حافظ آباد سے ہوتی ہوئی لائلپور اور چوتھی گوجرانوالہ۔ لائلپور کا سفر بعد میں۔ فی الحال ہم اس چوتھی لکیر پہ سفر کریں گے جو دھونکل اور گکھڑ منڈی کے راستے راہوالی کی دہلیز سے گوجرانوالہ کے دروازے پہ دستک دیتی ہے۔

چناب کے اس طرف ہر قدم پہ کھلے دل والے جاٹوں کی کہانیوں ہیں۔ کوئی وقت تھا کہ یہ جگہ، مذہب سے بے نیاز جاٹ زمینداروں کی آماجگاہ تھی۔ ان کی زمینوں، ان کی گھوڑیوں اور ان کے شکار نے وقت کو آپس میں اس طرح بانٹ رکھا تھا کہ سینتالیس کے ساون میں پہلی بار انہیں وقت بدلنے کا احساس ہوا۔

اس طرف وزیر آباد سے آگے دھونکل کا اسٹیشن ہے۔ چونکہ سارا دھونکل ہی سخی سرور کی داستانوں کے اردگرد گھومتا ہے سو اس نام کی کہانی بھی عقیدت کی بہت سی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ کلیروں کے اس علاقے کو پہلے کوٹ کلیر کہا جاتا تھا۔

یہاں کے ایک جوندہ سردار کا بیٹا دھونکل لعل کھو گیا۔ سردار ذات کا تو جاٹ تھا مگر بیٹے کی محبت میں اس نے حضرت یعقوب کی تقلید کی اور اپنی بینائی آنسوؤں کے راستے بہا دی۔ جب نابینا باپ حضرت سخی سرور کے پاس پہنچا اور اپنا درد بیان کیا تو آپ کی دعا سے دھونکل لعل واپس مل گیا۔ باپ بیٹے نے نہ صرف اپنا مذہب تبدیل کیا بلکہ کوٹ کلیر کو بھی نام بدلنے کا حکم دیا اور یوں یہ جگہ دھونکل ہو گئی۔

قصبہ کی اولین شناخت حضرت سخی سرور ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی جھنگ، بغداد، دھونکل اور ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں بسر کی اور نگاہ کے علاقے میں دفن ہوئے۔ سخی سرور سے منسوب روائتیں ایمن آباد کے راجہ سے دھونکل کے ترکھان تک سارے علاقے میں پھیلی ہیں۔ بھلا ہو میکلیگن صاحب کا، کہ ایک تو میکلیگن انجینئرنگ کالج بنا گئے (جو اب یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور کے نام سے مشہور ہے) اور دوسرا ان تمام روائیتوں کو مقامی بھاٹوں اور بہروہپیوں کے سینوں سے نکال کر کتابوں کے دامن میں چھوڑ گئے۔

یہاں اب سخی سرور کی یادگار کے طور پہ ایک کنواں اور ایک مزار ہے جہاں آپ دفن نہیں ہیں۔ مزار کے باہر آپ کے القابات لکھے ہیں اور اندر کی دیواروں پہ اس وقت کی لوک کہانیاں نقش ہیں۔ اس کے علاو ہ ایک باؤلی بھی ہے جسے آپ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سخی سرو ر کا عرس مختلف جگہوں پہ مختلف ناموں سے منایا جاتا تھا۔ یہ تقریبات بیساکھی کے میلے سے شروع ہوتیں اور پشاور کے جھنڈوں والے میلہ سے لاہور کے قدموں والے میلہ تک جاری رہتی۔

مزار کے راستے میں پڑنے والے تمام چھوٹے چھوٹے مزاروں اور قیام گاہوں کو چوکیاں کہا جاتا اور مرید ان چوکیوں پہ رات بسر کرتے تھے۔ عقیدت کے مارے یہ لوگ، اس تمام عرصے میں بستر ترک کر کے زمین پہ سوتے، جسے چوکی بھرنا کہا جاتا تھا۔ جو لوگ مرقد پہ نہ جا پاتے وہ کسی چوکی پہ رات بسر کرکے آ جاتے اور جو گھر سے ہی نہ جا سکتے وہ زمین پہ سو کر روائت نبھا لیتے۔ ایک اور روائت روٹ پکانے کی ہوا کرتی تھی۔ عرس کے دنوں میں صاحب حیثیت لوگ آٹے اور گڑ کو برابر مقدار میں پکا کر ایک حصہ گھر والوں کے لئے رکھ لیتے اور باقی تقسیم کر دیتے۔ انسان روائت کا بڑا قیدی ہے اور خدا سے زیادہ روائت کی مانتا ہے۔

سخی سرور کے مریدین تمام مذاہب سے تھے۔ گرو تیج بہادر کے زمانے میں بہت سے مرید دوبارہ خالص سکھ بن گئے مگر کچھ عرصے بعد روائت کا گھوڑا انہیں ہانک کر واپس لے آیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں جب اصلاحی تحریکوں نے زور پکڑا تو سنگھ سبھا اور اکالی نے اس پیری مریدی کی کھلے عام مخالفت شروع کر دی۔

اسی دوران گیانی دت سنگھ کی ایک کتاب چھپی ۔ ’’پیر پواڑا‘‘ نامی اس کتاب نے سخی سرور کے عقیدتمندوں پہ کڑی تنقید کی گئی۔ مگر چونکہ انسان کا زہن بھی سمت کا غلام ہوتا ہے سو کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا اور پھر پاکستان بن گیا۔ جو کام اکالی اور گیانی دت سنگھ نہ کر سکے وہ مسلم لیگ اور نہرو نے کر دکھا یا۔ تمام پیر بھائی منتشر ہو گئے۔ ادھر کے سلطانی اب ادھر نہیں آ سکتے اور یہاں کے معتقدین وہاں جا بسے۔ اس سب کے باوجود اس دنیا میں، جہاں ایک طرف لوگ خدا کے وجود سے منکر ہیں اور دوسری طرف عقیدہ خالص کرنے کے لئے زیارتوں کو تباہ کر رہے ہیں، دھونکل سے بہت دور مالوہ کے کسی نہ کسی گھر پہ اب بھی مور کے نشان والا جھنڈا، پیر خانے کی یاد دلا دیتا ہے۔

اگلا پڑاؤ گکھڑ منڈی کا ہے۔ اپنی دریوں کے سبب یہ جگہ خاص شہرت رکھتی تھی۔ اب چونکہ کوئی بھی زمین پہ بیٹھنے کے حق میں نہیں رہا اور دریوں کی جگہ کارپٹ نے لے لی ہے سو وہ صنعت بھی زوال کا شکار ہوئی۔ صدیوں تک بنتر بننے والوں نے اب موٹر سائیکلوں کے سپئیر پارٹس کا کام شروع کر لیا ہے۔ بہت ڈھونڈھنے پہ ایک پرانا کاریگر ملا۔ مسافر نے پوچھا کہ بیٹے کو فن سکھایا ہے تو بولا، ہاں ڈسپنسر کا کورس کروا دیا ہے، پاس کے گاؤں میں ڈاکٹر بن کہ پریکٹس کرتا ہے۔ پٹڑی کا کمال یہ ہے کہ اس کے اردگرد جس شخص سے بات کرو وہ قانع تو ہے مگر وقت بدلنے کا شکوہ ضرور کرتا ہے۔

گکھڑ منڈی سے آگے راہوالی کا اسٹیشن ہے۔ راہوالی کے دو حوالے ہیں۔ ایک شوگر مل اور ایک چھاؤنی۔ 1934 میں بنی یہ مل ہندوستان کی چند بڑی ملوں میں سے ایک تھی سو اس کا انجام بھی بہت سی بڑی ملوں جیسا ہی ہوا۔ مل تو اب نہیں رہی البتہ چند سائن بورڈوں کی صورت میں ایک مبہم سا سراغ باقی ہے۔ سڑک کے پار چھاؤنی بہرحال دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔

پرے ڈسکہ کو جانے والی سڑک ہے اور بیچ میں مونجی کی پنیریاں، جو زمین سے محبت کرنے والے جاٹوں کا مٹی سے کیا گیا وعدہ یاد دلاتی ہیں۔ اپنے اردگرد کے تمام شہروں سے دس کوس دور ہونے کے سبب ڈسکہ کا پرانا نام دس کوس ہوا کرتا تھا جو بگڑتے بگڑتے ڈسکہ ہو گیا۔ ویسے تو یہاں نندی پور کے نام کا آنند بھی ہے مگر آزادی سے پہلے ڈسکہ کی اصل شہرت جگا ڈاکو تھا جسے پنجاب کا روبن ہڈ بھی کہا جاتا ہے۔

لوک داستانوں ایسی بہادری کا حامل یہ کردار برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت تھی۔ جگے کی زندگی بارہا فلم کے فیتے پہ چڑھی مگر جس اختصار سے اس ٹپے میں یہ کہانی سنائی گئی ہے وہ بے مثال ہے۔

جگا جمیا فجر دی بانگے

تے لوڈے ویلے کھیڈدا پھرے

جگا جمیا تے ملن ودھایاں

تے وڈا ہو کہ ڈاکے ماردا

جگے ماریا لائل پور ڈاکہ

تے تاراں کھڑک گئیاں

جگا وڈھیا بوڑھ دی چھاویں

نو من ریت بھج گئی

جگے کی پیدائش تو چونیاں کے ایک نواحی گاؤں میں ہوئی مگر ڈسکہ میں بڑے بڑے زمیندار آباد تھے اس لئے جگے نے زیادہ تر وارداتیں یہیں کیں۔ تقسیم کے بعد اس کے اہل خانہ گڑھ مکتسر آباد ہو گئے جہاں اس کی بیٹی اب بھی اپنے باپ کی انتیس سال پہ مشتمل کہانی سناتی ہے۔

اب ہر جگہ فارم ہاؤس بن رہے ہیں اور کھیت کھلیان سونا اگل رہے ہیں۔ مونجیوں کے ساتھ ساتھ، گکھڑ کی منڈی، راہوالی کی چھاؤنی اور دھونکل کے سخی سرور، انسان کی ضرورتوں کی مکمل داستان سناتے ہیں۔ پہلے مورکھ روٹی کپڑے اور مکان کا بندوبست کرتا ہے، پھر تحفظ کا جنجال پالتا ہے اور آخر میں روح کی طلب پوری کرتا ہے۔ کھلیان، منڈی، چھاؤنی اور مزارکے درمیان ہی ساری بات طے ہو جاتی ہے۔

Advertisements