Tags

, , ,

آباد کاری کے دوران انگریزوں نے خانیوال کے ماتھے پہ سیدھی سیدھی لکیریں کھینچ کر بہت سے چک بنائے، جن میں ہر طرح کے لوگ آئے اور آباد ہوئے۔

بگٹیوں کی زمینوں اور نیازیوں کے مربعوں کے علاوہ یہاں خشونت سنگھ کے والد، سردار سوبھا سنگھ کی جننگ فیکٹریاں بھی ملتی ہیں اور جنگ عظیم میں کام آنے والے سپاہیوں کے فوجی چک بھی۔

72/10-R بھی ایسا ہی ایک چک ہے۔ گاؤں کی بنیاد رکھنے والے ولیم یوتھ ٹکر کا تعلق سالویشن آرمی سے تھا۔ اس خدائی فوج دار نے 1916 میں زمین کا ایک بہت بڑا ٹکڑا خریدا اور اسے چند عیسائی خاندانوں میں تقسیم کر دیا۔ آج، یہ چھوٹی چھوٹی ضروریات کو بڑی بڑی خوشیاں ماننے والے ان ہزاروں لوگوں کا گھر ہے جو انسان کی پرورش کرنے کے عوض زمین کی ماں جیسی عزت کرتے ہیں۔

بات تو پانچ فروری کی ہے ، مگر اس کے ڈانڈے 17 جنوری 1997 کے ایک واقعے سے جوڑے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں اس دن پولیس نے قمار بازی کے الزام میں کسی کے گھر چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران ایک الماری سے انجیل نیچے گر پڑی، جسے کسی نے نہیں اٹھایا۔ اس دوران جب ملزم اسے سمیٹنے کے لئے آگے بڑھا تو پولیس کی پکڑ دھکڑ میں کتاب مقدس کی مزید بے حرمتی ہوئی۔ شام ہوئی تو محلے کے کچھ معتبر لوگ ملزم سے ملنے تھانے پہنچے۔ پولیس والوں کے ہتک آمیز رویے سے تنگ آ کر مقامی لوگوں نے بے حرمتی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف 295 سی کا مقدمہ درج کروانے کا فیصلہ کیا۔

واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے لئے جانے والوں کو بھی لگ بھگ انہی حقائق کا سامنا کرنا پڑا، مگر کوئی بھی ایف آئی آر کاٹنے کو تیار نہیں تھا۔ اگلے دن مسیحیوں نے شہر میں جلوس نکالے جن کے نتیجے میں مقدمہ تو درج ہو گیا مگر ملزمان نے پہلے سے ہی ضمانت کروا رکھی تھی۔

اب عیسائیوں پہ بھی دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا کہ وہ مقدمہ واپس لے لیں۔ بات نرم لہجے سے شروع ہوئی اور اونچی آوازوں سے ہوتی ہوئی دھمکیوں پہ ختم ہو گئی۔

چک 72/10-R سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پہ نہر کے کنارے ایک پرانا پیپل ہے۔ درخت کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس میں گنتی کے نمازی آتے جاتے صف باندھ کر سفر کی نماز ادا کرتے ہیں۔ پانچ فروری 1997 کی شب جب ایک شخص عشاء کی نماز پڑھنے گیا تو اسے قران پاک کے کچھ جلے ہوئے اوراق ملے۔ ان صفحات پہ نبی کریم کے بارے میں توہین آمیز کلمات بھی لکھے تھے۔ ایک اور صفحے پہ کسی نے اپنا نام اور مکمل پتہ بھی ساتھ ہی لکھ چھوڑا تھا۔ عجیب بات تھی کہ یہ اسی گھر کا پتہ تھا جہاں جنوری والا واقعہ ہوا تھا۔

ایک گھنٹے کے اندر اندر نزدیکی تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد پپلاں والی مسجد سے اس واقعے کی تفصیلات نشر ہونا شروع ہو گئیں۔ آہستہ آہستہ شہر کی دوسری مساجد کے لاؤڈ سپیکر بھی یہی واقعہ دہرانے لگے۔ خانیوال کے عیسائیوں کے خلاف جہاد عین واجب ہو گیا اور اہل ایمان سے اپیل کی جانے لگی کہ وہ اسلام کو بچانے کے لئے گھروں سے نکل پڑیں۔

معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فادر تھیوڈور درشن، رات کے ساڑھے دس بجے ڈپٹی کمشنر کو ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے ایڈیشنل کمشنر کے گھر جا پہنچے۔

ٹھیک جس وقت صاحب لوگ، فادر کو یقین دلا رہے تھے، خانیوال کی تاریخ کا دوسرا مذہبی فساد شروع ہو چکا تھا۔ شہر میں موجود گرجا گھر حملہ آوروں کا پہلا نشانہ تھے۔ جان بچاتے ہوئے پادریوں نے سرکاری عہدیداروں کو فون کیا تو نہ کہیں سے جواب ملا اور نہ ہی تسلی۔ اس رات کسی نے کلیم دل کو بھی مارنے کی کوشش کی جو کہ انجیل کی بے حرمتی کے کیس میں مرکزی گواہ تھا۔

خانیوال پہ اگلا دن بہت بھاری گزرا۔ پولیس کی موجودگی کے باوجود سینٹ جوزف کے گرجا گھر پہ حملہ ہوا۔ بلوائی ہاکیوں، لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے لیس تھے۔ وہ ایک ایک کر کے چرچ کے قالین، کتابیں اور فرنیچر نکالتے رہے اور جلاتے رہے، مگر جلانے والوں کو شائد پتہ نہیں چلا کہ اس دن صرف عہد نامہ عتیق نہیں جلا بلکہ اس کے وہ اوراق بھی جلے جن میں خدا کی عظمت کا بیان تھا۔

گرانے والوں نے سوچا تو نہیں مگر جس مقدس مریم کا مجسمہ گرایا گیا، اسے قران، تمام عورتوں سے افضل قرار دیتا ہے۔ صلیبیں توڑنے والے شائد بھول گئے کہ ان پہ وہ پیغمبر مصلوب ہے جس پہ یقین، ایمان کا حصہ ہے۔ سالویشن آرمی چرچ، کیتھولک چرچ، ڈسپنسری، پادریوں کے گھر، عیسائیوں کی دوکانیں، لگتا تھا اس دن خانیوال میں کچھ نہیں بچے گا۔

دوسری طرف چھ فروری کی صبح چک 72/10-R کے باہر بھی لوگ اکٹھے ہونا شروع ہو گئے۔ کچھ دیر بعد چند سرکردہ افراد گاؤں والوں سے ملے اور انہیں اس ہجوم کے بارے میں بتایا۔ ان لوگوں نے گاؤں والوں کو مشورہ دیا کہ ان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ کچھ دیر کے لئے گاؤں خالی کر دیں اور مزید فساد سے بچنے کے لئے اپنے ہتھیار جمع کروا دیں۔ گاؤں والوں نے گاؤں چھوڑنے سے تو انکار کر دیا مگر اتنا یقین ضرور دلایا کہ وہ جلوس کو مشتعل نہیں کریں گے۔

نو بجے کے قریب یہ ہجوم گاؤں میں داخل ہوا۔ غصے اور تعصب سے اندھے ہونے کے باجود، سب سے پہلے ٹیلیفون اور بجلی کے تار کاٹے گئے۔ پھر لوگوں کا مال اسباب لوٹا گیا۔ کچھ لوگ ان کے ایمان کی علامتیں مٹانا شروع ہو گئے اور کچھ ان کے جانوروں کو ہانکا لگا کر باہر لے گئے، مگر ان سب سے خطرناک کچھ اور لوگ تھے۔ انہوں نے باغوں میں آگ لگا دی، گھروں پہ بم پھینک دئے اور کھلیانوں میں بارود بھر دیا۔ اب یہاں وہاں صرف جلتی ہوئی پاس بکیں، پنشن کی رسیدیں، بچوں کی کتابیں اور مڑے تڑے گارڑر پڑے تھے۔ زندگی سے بھرپور یہ گاؤں دیکھتے ہی دیکھتے راکھ اور ملبے کا ڈھیر بن کر رہ گیا۔ جب یہ ہجوم گاؤں سے نکلا تو بارہ بج رہے تھے۔

جب تک فوج سانحے کی جگہ پہ پہنچی، گاؤں میں راکھ اڑ رہی تھی۔ ان تین گھنٹوں میں قریب قریب ایک ہزار گھروں کا سامان، امید اور بھروسہ تک جل گیا۔ حملہ آور اپنے پیچھے بغیر چھتوں کے گھر چھوڑ گئے تھے، جن کی سیاہ دیواریں آسمان تکتی تھیں۔

آگ صرف اس طور بجھ پائی تھی کہ جلنے کو کچھ باقی ہی نہیں بچا تھا وگرنہ پانی کے سب راستے بھی مسدود تھے۔ نلکوں کی ہتھیاں نہیں تھیں، ٹیوب ویل بجلی سے چلتے تھے اور مذہب بچانے کے لئے آنے والے ٹریکٹر بھی ساتھ لے گئے تھے۔ بہت دنوں تک لوگ کھلے آسمان کے نیچے چیتھڑے پہنے موسم سے جنگ لڑتے رہے کیونکہ آگ نے نہ بستر چھوڑے تھے اور نہ ہی کپڑے۔

یوں تو دونوں فساد رمضان کے آخری عشرے میں ہوئے تھے مگر شانتی نگر اور تقسیم کے فساد میں بس اتنا فرق تھا کہ سن سینتالیس میں لوگوں کے پاس جانے کی کوئی جگہ تھی۔

چک 72/10-R کا اصل نام شانتی نگر تھا جس کا مطلب ۔۔۔۔۔

Advertisements