صادق دوست سے ایک راستہ صحرا کو نکلتا ہے اور دوسرا شہر کو۔ پاکستان کے دفاع کی خاطر افغانستان کا دفاع کرنے والی کونسل کے عبدالرحمٰن مکی سے رمزی احمد یوسف کا کردار نبھانے والے آرٹ ملک تک بہاولپور کے لوگوں کا تنوع اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتا جب تک مسافر یزمان کے راستے دراوڑ کا قصد نہیں کرتا۔

ریت اور مٹی کی اصل سرشت اس وقت سمجھ آتی ہے جب سڑک کے ایک طرف ریت، ٹیلوں کی صورت میں گیا وقت دکھاتی ہے اور دوسری طرف مٹی، سبزے کی صورت میں نیا کل بتاتی ہے۔ ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک سڑک ہے جو دراوڑ کے قلعے تک کھنچی چلی جاتی ہے۔

اب یہ بات تو اندازوں کا رزق ہے کہ دراوڑ کا یہ قلعہ کب سے یہاں ہے مگر اتنا ضرور کہا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد میں کچھ ڈھائی ہزار سال قبل مسیح کی نشانیاں تھیں۔ پرانے وقتوں کا چلن تھا کہ قلعے، دریائی گزر گاہوں کے کنارے کھڑے کئے جاتے تھے سو ان مضبوط فصیلوں کے ساتھ ساتھ بہت پہلے ہاکڑا دریا بھی بہا کرتا تھا۔ گیان رکھنے والے بہت سے لوگ ہاکڑا کا رشتہ سرسوتی دریا سے بھی جوڑتے ہیں، مگر علم اور زرخیزی کی سرسوتی دیوی سے منسوب اس دریا کے پاٹ پر بھی، اب ریت کا راج ہے۔

نویں صدی کے پھیر میں ہڑپہ تہذیب کے اس قدیم شہر پہ جیسلمیر کے بھٹی راجپوتوں نے حملہ کیا ۔ فتح کی نشانی کے طور پہ راجہ راول دیو راج نے یہاں ایک مٹی کی عمارت تعمیر کی اور اس کا نام ڈیرہ راول رکھا۔ پھر جیسے ریگستان کے طوفان، ہر نشانی سے جنگ لڑتے ہیں، یہ نام بھی بگڑتے بگڑتے ڈیرہ راوڑ بنا اور آخر کار دراوڑ بن گیا۔

راجپوت بھٹی کمزور پڑے تو بہاول عباسیوں نے یہاں اپنا جھنڈا لہرا یا اور اسے چالیس گھیرے دار ستونوں والی موجودہ شکل میں تعمیر کیا۔ اٹھارہویں صدی کی یہ تعمیر اچ کی ان اینٹوں کا معجزہ ہے جو کئی ہزار ہاتھ بدل کر یہاں پہنچیں۔

دربار محل تک جانے والی سرنگ سے حدت ختم کرنے والے سرد خانے تک اس قلعے میں زندگی کا سب سامان میسر تھا۔ موت کی حقیقت کے اعتراف میں عباسیوں نے اپنا شاہی قبرستان بھی انہی فصیلوں کے اندر بنا رکھا تھا۔ تعمیر کا اوج حاصل کرنے والی ان نادر قبروں میں دو ڈھائی صدی کی پوری عباسی داستان دفن ہے۔ مشرقی اور مغربی بیگمات کے مراقد پہ لگے سنگ مرمر کے سبھی کتبوں پہ موت کی ٹھنڈک بالکل ایک جیسی ہے۔

دراوڑ اور دین گڑھ کے قلعے کے درمیان، چنن پیر ہے۔ چھ سو سال پرانے اس مزار پہ ہندو اور مسلمان یکساں ایمان سے آتے ہیں۔ شتر بانوں کے قافلے اپنی اپنی منزلوں سے چلتے ہیں اور جاڑا ٹوٹنے سے پہلے پہلے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ رات کے ملگجے اندھیروں یا صبح کی خاکستری روشنیوں میں جب ڈاچیوں کی گھنٹیاں، عقیدت مندوں کی آمد کا اعلان کرتی ہیں تو ریل کا سفر خواب سا لگتا ہے۔

مسلسل سات جمعراتوں تک لگا رہنے والا یہ میلہ پانچویں جمعرات کو اپنے عروج پہ پہنچ جاتا ہے۔ یوں تو چنن پیر سے کئی روایات منسوب ہیں مگر زیادہ مستند سمجھی جانے والی داستان حضرت جلال الدین سرخ پوش کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سفر کے دوران آپ اس مقام پہ رکے تو یہاں کے بے اولاد بادشاہ سادھارن کو آپ کی کرامات کا علم ہوا۔ بادشاہ نے درویش سے اولاد کی دعا مانگی تو جواب میں بیٹے کی بشارت ملی۔ شہزادہ پیدا ہوا تو اتنا خوبصورت تھا کہ لوگوں نے اسے چاند سے تشبیہ دی اور چنن پکارنے لگے۔

کچھ دن گزرے تو دعا نے اثر دکھایا اور چنن نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ رعایا میں مشہور ہو گیا کہ بادشاہ کا بیٹا، غیر مذہب کا نام لیوا ہے۔ سادھارن، سادھارن ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ بھی تھا سو اس نے بچے کے قتل کا حکم دے دیا۔ ماں، مگر ملکہ ہونے کے باوجود ماں ہی رہی اور باپ کو بیٹے کی جان بخشنے پہ مجبور کر دیا۔

بادشاہ نے چنن کو جان کی امان تو دے دی مگر گھر میں رکھنے کی بجائے، صحرا میں چھوڑنے کی شرط باندھ دی سو ایک رات روتی ہوئی ماں کے دامن سے چنن کو اٹھا کر ریت کے ایک ٹیلے پہ چھوڑ دیا گیا۔ کچھ دن گزرے تو لوگوں نے دیکھا کہ اسی ٹیلے پہ ایک ہرنی چنن کو دودھ پلا رہی تھی۔ بات ملکہ تک پہنچی تو وہ بچے کے پاس پہنچ گئی اور بات بادشاہ تک پہنچی تو اس نے قتل کا حکم جاری کر دیا۔ اس کے آگے روائت خاموش ہے اور عقیدت بولتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ جونہی شاہی محافظ ٹیلے پہ پہنچے، چنن پیر غائب ہو گئے جب کہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہی چنن پیر آگے چل کر بہت بڑے صاحب حال بزرگ ہوئے جن کی تبلیغ سے سینکڑوں لوگ مسلمان ہوئے۔

بزرگ اور بادشاہ کے نام کے فرق سے ایک دوسری کہانی بھی چنن پیر کا تعلق اسی ٹیلے سے جوڑتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کہانی میں بادشاہ نے معجزہ دیکھنے کے بعد بیٹے کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا۔

تقریبا تمام روایات کے آخر میں چنن پیر اسی ٹیلے پہ زمین کا رزق ہوئے اور عقیدت مندوں کے لئے ماتھا ٹیکنے کی ایک اور جگہ چھوڑ گئے۔ ریت کے اس ٹیلے کو جب بھی مزار کی باقاعدہ شکل دینے کی کوشش کی گئی، ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ کبھی رات کی رات میں عمارت گر گئی اور کبھی زلزلہ آ گیا۔ اس رضائے فقیر کو سمجھتے سمجھتے مقامی لوگوں نے کئی سو سال لگا دئیے اور اب پچھلے دو سو سالوں سے کوئی ایسی کوشش بھی نہیں کی۔

مزار کے احاطے میں ایک درخت بھی ہے جس کی بابت مشہور ہے کہ چنن پیر کی والدہ یہاں مدفون ہیں۔ زائرین حاجت بیان کرنے کے بعد اس درخت سے کپڑے کی ایک دھجی باندھ کر چلے جاتے ہیں۔ اگر مناجات پوری ہوجائیں تو یہ دھجیاں کھل جاتی ہیں اور شکرانے کے طور پہ نیاز دی جاتی ہے، بصورت دیگر جس طرح نا آسودہ خواہشیں یادوں کی انگیٹھی کو دہکاتی رہتی ہے، روشنی پڑنے اور ہوا چلنے پہ یہ دھجیاں بھی ایسا ہی منظر پیش کرتی ہیں۔

سفر کو کہانی سے جوڑنے والے سلمان رشید صاحب یونان کے ٹیسیا کی کتاب انڈیکا سے ایک اور قصہ سناتے ہیں۔ تاریخ کے اس عالم نے کئی صدیوں پہلے لکھا تھا کہ سلیمانی پتھر اور شفاف پتھروں کی پہاڑیوں (ہمالے و ہندو کش) سے پندرہ دن کی دوری پہ ایک ایسا مقام ہے جہاں لوگ سورج اور چاند کی عبادت کرتے ہیں۔ ان آفاقی طاقتوں کا یہ میلہ سردی ڈھلنے پہ شروع ہوتا ہے اور پینتیس دن تک جاری رہنے کے بعد اس وقت اپنے اختتام کو پہنچتا ہے جب سورج حدت پکڑنا شروع کر دیتا ہے۔

مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ ہر سال میلے میں زائرین کی تعداد پہلے سے زیادہ ملتی ہے۔ یہ عقیدت مند، زمین کی پوجا کو آئیں یا چاند کی آرتی اتاریں، مندروں میں گھنٹیاں بجائیں یا درخت کی شاخوں سے امید باندھ لیں، ایک بات طے ہے کہ آدمی اور اس کے خدا کے درمیان سارا کھیل خواہش کا ہے۔

Advertisements